SS HEADMASTER/HEADMISTRESS JOBS IN PUNJAB 2015 output_ehG634 CTI JOBS IN PUNJAB cti jOBS

محکمہ صحت میں سیاسی بھرتیاں جاری ، مفادعامہ کے متعدد پروگرام متاثر

محکمہ صحت میں سیاسی بھرتیاں جاری ، مفادعامہ کے متعدد پروگرام متاثر

میڈیکل جامعات ، کالجز،اسپتال،ڈسپنسریاں،نرسنگ بورڈ سمیت دیگر طبی شعبہ جات میں فنڈز کے باوجود بہتری کے امکانات معدوم ہوگئے ،باخبر ذرائع حفاظتی ٹیکہ جات ،ملیریا ،انسداد پولیو مہم ،نیوٹریشن، ٹی بی کنٹرول ، ایڈز سمیت کئی پروگرام مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا اظہار تشویش

)محکمہ صحت سندھ میں گزشتہ کئی برس سے مختلف عہدوں پر جاری سیاسی بھرتیوں کی وجہ سے صحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہے ،باخبر ذرائع کے مطابق صحت عامہ سے متعلق متعدد پروگرامز متاثر ہیں ۔میڈیکل یونیورسٹیز ،میڈیکل کالجز، اسپتال، ڈسپنسریاں، نرسنگ بورڈ سمیت دیگر طبی شعبہ جات میں بہتری کے امکانات ختم ہوتے جارہے ہیں ۔دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی نے بھی صحت عامہ سے متعلق صوبے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انسانی جانوں کی دیکھ بھال کرنے والے شعبے پر رحم کیا جائے ،محکمہ صحت میں فوری طور پر میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں۔ذرائع کے مطابق صوبائی محکمہ صحت کے ماتحت کراچی سمیت صوبے بھر میں چلنے والے حفاظتی ٹیکہ جات (ای پی آئی)ملیریا کنٹرول ،انسداد پولیو مہم ،نیوٹریشن پروگرام ،ماں اور بچے کی صحت (ایم این سی ایچ)، ٹی بی کنٹرول پروگرام،سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام، سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی،نیشنل پروگرام برائے خاندانی منصوبہ بندی سمیت دیگر پروگرام شامل ہیں،متاثر ہورہے ہیں ۔ ان پروگرامز میں گزشتہ کئی برس سے مختلف انتظامی اور دیگر عہدوں پر سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کی وجہ سے بہتر نتائج سامنے نہیں آرہے ہیں ۔محکمہ صحت سندھ کے موجود ہ افسران بھی نتائج پر توجہ دینے کو تیار نہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ محکمہ صحت سندھ کے اہم شعبہ جات جس میں حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام (ای پی آئی)میں سالانہ لاکھوں روپے کے فنڈز ہونے کے باوجود پولیو پر قابو نہیں پایا جاسکا ۔سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام میں بھی 2 برس کے دوران متعدد افسران کو تبدیل کیا گیا اور ماتحت این جی اوز کو کئی ماہ گزرنے کے باوجود فنڈز نہیں دیے گئے جس کی وجہ سے انہوں نے مرض میں مبتلا سیکڑوں مریضوں کا علاج ادھورا چھوڑ دیا ہے ۔ملیریا کنٹرول پروگرام بھی برائے نام چل رہاہے جس کے فنڈز لاکھوں میں ہیں ۔ سال میں محض چند بار ہی دکھاوے کا اسپرے کیا جاتاہے ۔اسپرے نہ ہونے سے مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہورہاہے جبکہ سال بھر میں ملیریا کے ساتھ رپورٹ ہونے والے مریضوں کی تعداد ہزار وں میں ہے جس کو محکمہ چھپانے کی کوشش کرتاہے ۔سندھ ٹی بی کنٹرول پروگرام کے ذریعے بھی مریضوں کو بہتر علاج کی سہولتیں میسر نہیں ہیں جبکہ سالانہ لاکھوں روپے فنڈز ہے جس میں خورد برد کی شکایات بھی سامنے آچکی ہیں۔سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اٹھارٹی بھی سال میں چند بار کراچی اور صوبے کے متعدد بلڈ بینکوں کا معائنہ کرکے سب ٹھیک ہے کی رپورٹ پیش کردیتی ہے ۔ صوبے بھر میں متعدد بلڈ بینک غیر معیار ی چل رہے ہیں جہاں پر بھاری فیس میں خون اور دیگر اجزاء فروخت کیے جارہے ہیں اس کے باوجود اتھارٹی ایکشن نہیں لے رہی لیکن افسران کا کہناہے کہ ایکشن لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ میڈیکل یونیورسٹیز ،اسپتال ،ڈسپنسریوں کے انتظامی افسران سمیت دیگر شعبوں میں بھی سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کے عمل کی وجہ سے یہ شعبہ جات گزشتہ کئی برس سے بہتر نتائج نہیں دے سکا ہے ۔اس حوالے سے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قاضی واثق نے روزنامہ ‘‘دنیا’’کو بتایا کہ پی ایم اے نے ہمیشہ میرٹ کی بات ہے ۔انہوں نے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ محکمہ صحت کے مختلف شعبہ جات میں گزشتہ کئی برس سے سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں جاری ہیں جس کی وجہ سے صوبے بھر کے صحت کے مراکز ،صحت کے پروگرامز ااور اسپتالوں میں بہتری نہیں آسکی۔ان کا کہناتھاکہ جب تک سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کا عمل ختم نہیں ہوگا تب تک صحت کے شعبے میں بہتر ی لانا ممکن نہیں ہے ۔ڈاکٹر قاضی واثق نے حکومت سندھ اور محکمہ صحت سندھ سے مطالبہ کیاہے کہ تمام چھوٹے بڑے اسپتالوں میں مریضوں کو تمام سہولتیں مفت اور فوری پہنچانے میں اپنا کردار اداکریں تاکہ انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرناپڑے ۔اس حوالے سے صوبائی سیکریٹری صحت افتخار شالوانی سے رابطہ ممکن نہیں ہوسکا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>