SS HEADMASTER/HEADMISTRESS JOBS IN PUNJAB 2015 output_ehG634 CTI JOBS IN PUNJAB cti jOBS

وکلا کے لیے این ٹی ایس طرز کا امتحان لازم قرار

وکلا کے لیے این ٹی ایس طرز کا امتحان لازم قرار

پاکستان بار کونسل نے غیر ملکی یونیورسٹیوں سے لاکی ڈگری کے حامل طلباکو این ٹی ایس امتحان سے مستثنیٰ قرار دیا ہے جو امتیازی سلوک کے مترادف ہے :درخواست گزارکاہائیکورٹ میں مؤقف مسٹرجسٹس مسعود عابدنقوی نے محکمہ پولیس میں کنٹریکٹ پربھرتی کئے گئے سابق فوجیوں کو مستقل نہ کئے جانے کے خلاف دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا

لاہور ہائیکورٹ نے وکالت کے لائسنس کے حصول کیلئے غیر ملکی یونیورسٹیوں کی ڈگریوں کے حامل امیدواروں کیلئے بھی این ٹی ایس کی طرز کاامتحان لازم قرار دیدیا ہے ۔لاہور ہائیکورٹ کے روبرو درخواست گزار کے وکلانے موقف اختیار کیا کہ پاکستان بار کونسل نے وکالت کا لائسنس حاصل کرنے کے لئے این ٹی ایس کا امتحان لازم قرار دیدیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لاکی ڈگری لینے کے بعد صوبائی بار کونسلز پہلے ہی امیدواروں کا امتحان لیتی ہیں لہذا این ٹی ایس کی شرط بلاجواز ہے لہذا اس شرط کو ختم کرنے کا حکم دیا جائے ۔درخواست گزار شیراز ذکا نے مزید موقف اختیار کیا کہ پاکستان بار کونسل نے ملکی یونیورسٹیوں سے لاکی ڈگری کے حامل طلبا پر این ٹی ایس کا امتحان لازم قرار دے دیا ہے جبکہ غیر ملکی یونیورسٹیوں سے لاکی ڈگری کے حامل طلباکو اس امتحان سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے جو کہ امتیازی سلوک کے مترادف ہے جس پر فاضل عدالت نے وکالت کے لائسنس کے حصول کیلئے ملکی اور غیر ملکی یونیورسٹیوں کی ڈگریوں کے حامل امیدواروں کیلئے این ٹی ایس کی طرز کا امتحان لازم قرار دیدیا۔عدالت نے این ٹی ایس کی شرط عائد کئے جانے کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی۔دریں اثنا ہائیکورٹ کے مسٹرجسٹس مسعود عابدنقوی نے محکمہ پولیس میں کنٹریکٹ پربھرتی کئے گئے سابق فوجیوں کو مستقل نہ کئے جانے کے خلاف دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ، سماعت کے موقع پر پولیس کانسٹیبلوں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سابق فوجیوں کو مستقل کرنے کی سفارشات کے باوجود آئی جی پنجاب نے اپنے منظور نظر افراد کو نوازنے کے لئے موجودہ کنٹریکٹ ملازمین کی ملازمتوں میں توسیع سے انکار کر دیا۔ پہلے سے موجود پولیس اہلکاروں کو نوکریوں سے نکال کر سیاسی بنیادوں پر نئے افراد کو تعینات کیا جانا واضح طور پر امتیازی سلوک اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے جس پر عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>