SS HEADMASTER/HEADMISTRESS JOBS IN PUNJAB 2015 output_ehG634 CTI JOBS IN PUNJAB cti jOBS

تمام اداروں کے سربراہ اسی سال تعینات کرنے کا حکم

تمام اداروں کے سربراہ اسی سال تعینات کرنے کا حکم

کمیشن کا قیام آرٹیکل90کے مطابق نہیں ،تقرریوں کا اختیار حکومت کا ہے‘عدالت نے محفوظ فیصلہ سنادیا سربراہان کی تقرری کے حوالے سے 10دسمبر تک رپورٹ پیش کی جائے ،اٹارنی جنرل کو ہدایت

اسلام آباد(سپیشل رپورٹر)سپریم کورٹ نے سرکاری اداروں کے سربراہان کی تقرری کیلئے کمیشن کی شرط ختم کر دی ہے ۔ عدالت نے وفاق کی جانب سے دائر نظرثانی کی اپیلوں کو منظور کر تے ہو ئے قبل ازیں جاری کئے گئے خواجہ آصف کیس کے فیصلے پر نظرثانی کر دی ہے اور وفاقی حکومت کو قانون اور قواعد کے مطابق دسمبر کے اختتام تک سرکاری اداروں کے سربراہوں کی تعیناتی کرنے کی ہدایت کی ہے ۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کارپوریشنز، خود مختار اور نیم سرکاری اداروں کے سربراہان کی تقرری حکومت کا اختیار ہے ۔عدالت نے کہا ہے کہ اب ان تقرریوں کے راستے میں کوئی بھی ر کاوٹ نہیں ہے ،عدالت نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ تمام خودمختار، نیم خودمختار اور کارپوریشنز میں سربراہان کی تقرری کے حوالے سے 10 دسمبر تک رپورٹ پیش کی جائے ۔قبل ازیں عدالت نے وفاق کی جانب سے دائر نظرثانی کی اپیل کی سماعت کر تے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا ۔ خواجہ آصف نے پیپلز پارٹی دور میں کارپوریشنز اور سرکاری اداروں میں تقرری پر اعتراض کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے 22نیم سرکاری اداروں اور33کارپوریشنز کے سربراہان سے متعلق فیصلہ 2013ء میں دیا تھا۔عدالت نے خواجہ آصف کیس کے فیصلے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے میں آرٹیکل 90کی شقوں کو نظرانداز کیا گیا تھا، کمیشن کا قیام اور ان تقرریوں کے لیے سفارشات کر نا آرٹیکل90کے مطابق نہیں ہے ،تقرریوں کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے ،خواجہ آصف کیس کے فیصلے کے پیرا 26اور27کے مطابق قانونی اختیار کمیشن کو دیا گیا اور قرار دیا گیا کہ وزیر اعظم کمیشن کی سفارشات کے پابند ہیں،جبکہ ایک اصول مسلمہ ہے کہ تقرریوں اور تبادلوں کے اختیارات وفاقی حکومت کے پاس ہیں اور یہ بھی مسلمہ اصول ہے کہ عدالتیں وفاق کی پالیسی سازی میں مداخلت نہیں کر تیں،آئین اختیارات کی تقسیم کے ا صول پر کاربند ہے اور قانون سازوں کو قانون بنانے ،انتظامیہ کو اس پر عمل کر نے اور عدلیہ کوقانون کی تشریح کے اختیارات حاصل ہیں،عدالتیں پالیسی سازوں اورقانون سازوں کے اختیارات نہیں لی سکتیں۔ عدالت نے سرکاری اداروں کے سربراہان کی تقرری کا نوٹس ایک آئی ایس آئی کے ملازم غلام رسول و دیگر کے کیس میں لیا تھا۔آن لائن کے مطابق عدالت نے غلام رسول کی ترقی اور کیڈر کے حوالے سے دائر درخواست خارج کرتے ہوئے انہیں فیڈرل ٹربیونل سروسز سے رجوع کرنے کا کہا ہے ، واضح رہے کہ چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں بینچ نے درخواست پر فیصلہ 30 اکتوبر کو محفوظ کر لیا تھا جو جمعہ کے روز جاری کیا گیا، چیف جسٹس ناصر الملک نے خود فیصلہ تحریر کیا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>